Facebook SDK

 

اردو غزل کا دوسرا پاکستانی دور

1960 کے بعد پاکستان میں اردو غزل کے حوالے سے انحراف کے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ سیاسی عدم استحکام، معاشرتی ناانصافیوں اور سب سے بڑھ کر ایک نئی سلطنت۔۔۔۔۔۔۔ مسلم سلطنت کے قیام سے وابستہ امیدوں کے دم توڑ جانے سے ادب میں بھی شکست و ریخت کا عمل دکھائی دینے لگا۔ بڑوں کے اعمال پر تنقید نے قطعی تردید کے لیے راستے ہموار کیے۔ غزل میں ایک جھنجھلاہٹ در آئی۔ روایت سے کلیتاً انکار، غزل میں اجنبی یا یوں کہیے کہ غیر مانوس قسم کے تجربات سامنے آنا شروع ہوئے۔ مختصراً یہ کہاجا سکتا ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں کہی جانے والی غزل ہماری تب تک کی اردو غزل کے ردِعمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس دور کا سب سے اہم نام سلیم احمد کا ہے۔ ان کے شعری مجموعہ ’’بیاض‘‘ کی اشاعت مروجہ شعری اسلوب سے بغاوت کا اعلان تھا۔ بقول سلیم احمد یہ ایک شعوری کاوش تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ نئےراستے تلاش کرنے کی کاوش، کم یا غیر مستعمل الفاظ اوراپنے عصر ی مسائل کے اظہار کو غزل میں کھپانے کی کوشش۔ سلیم احمد کی غزل جدید انسان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خصوصاً شہری زندگی کی عکاسی کرتی ہے ۔ جنسی معاملات کا بے دھڑک بیان سلیم احمد کی شاعری کی ایک اور جہت ہے:

آکے اب جنگل میں یہ عقدہ کھلا

بھیڑیے پڑھتے نہیں ہیں فلسفہ

نہ پوچھو عقل کی، چربی چڑھی ہے اس کی بوٹی پر

کسی شے کا اثر ہوتا نہیں کم بخت موٹی پر

بلندی کی طلب ہے اور اندر انتشار اتنا

سو اپنے شہر کی سڑکوں پہ فوارے بناتا ہوں

وہ ہاتھ ہاتھ میں آیا ہے آدھی رات کے بعد

دیا دیے سے جلایا ہے آدھی رات کے بعد

سلیم احمد

’’آب رواں ‘‘ کے شاعر ظفر اقبال نے تجرید کے راستے دل کش مصوری کے بعد لسانی تشکیلات کی ٹھان لی جس کی پہلی قسط ’’گلافتاب‘‘ کی شکل میں بقول خود اُردو زبان کی تھکن اور پژمردگی دور کرنے کے لیے سامنے لائی گئی۔ شاعری کے شایانِ شان پیرایہ کی مسلسل تلاش میں مگن ظفر اقبال کبھی قدم آگے بڑھاتے ہیں تو کبھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کے تجربات نے خود انھیں اور اردو غزل کو کیا دیا، ایک لمبی بحث ہےلیکن ایک بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ان کے وہی اشعارقبولِ عام کی سند حاصل کر سکے، جہاں انھوں نے ان لسانی تجربات کے حوالہ سے انتہاپسندانہ رویے سے گریز کیا:

بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا

پھر اس کے بعد نہ میں تھا نہ میرا سایہ تھا

کیا ریت کا اک پھول سا کھل اٹھتا ہے دل میں

جب موجِ ہوا آتی ہے صحرا کی طرف سے

پھر سرِ صبح کسی درد کے در وا کرنے

دھان کے کھیت سے اک موجِ ہوا آئی ہے

نہ کوئی پھول کِھلا ہے نہ کوئی داغ پڑا ہے

یہ گھر بہار کی راتوں میں بے چراغ پڑا ہے

شاعر وہی شاعروں میں اچھا

کھا جائے جو شاعری کو کچا


ظفر اقبال

سادگی و برجستگی کے پہلو بہ پہلو جون ایلیا نے اردو غزل میں متروک الفاظ کو دوبارہ اعتبار بخشا، زبان کے تجربات کی رو میں عربی اور فارسی کے الفاظ کا بلاجھجھک استعمال جون کا اختصاص ہے۔انور شعور کی شاعری معاشرے کی جکڑ بندیوں سے بیزار فرد کی آواز ہے۔ یہ فرد سراپا سوال ہے۔ بات ذاتی ہو کہ کائناتی۔۔۔۔۔۔۔ خودملامتی اورخودکلامی میں اٹھائے گئے سوالات فرد سے معاشرے اور بعدازاں پوری کائنات کا احاطہ کرتے نظر آتے ہیں۔ شکیب جلالی اپنی جواں مرگی ، تند و تلخ لہجے اور قدرے منفرد تمثالوں کے باعث زندہ ہیں۔ عبیداللہ علیم خوابوں کے راستے زندگی کی سچائیوں تک رسائی کا خواہاں ہے۔ اقبال ساجد کی آواز زر پرست معاشرے میں ایک بے بس لیکن انا پرست انسان کی آواز ہے۔ لہجے کی تندی و تلخی اکثر اشعار میں ناگواری کا سبب ٹھیرتی ہے۔اسی زمانے میں انگریزی الفاظ کا غزل میں بکثرت استعمال سامنے آیا۔ لفظوں کی اردو زبان سے ہم آہنگی و نامانوسیت نے کئی رنگ دکھائے۔ ناصر شہزاد نے غزل میں گیت کے آہنگ کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ نئے الفاظ غزل میں استعمال کرنے کی کوشش کی۔ غزل کو جدید علوم کا تڑکا لگانے کی شعوری کاوش ریاض مجید کے ہاں تغزل کو مجروح کرتی دکھائی دیتی ہے لیکن یہی علوم توصیف تبسم کی غزل کو آب و تاب ودیعت کرتے ہیں۔ ساقی فاروقی کی طبیعت میں بغاوت کے عنصر نے ان کی غزل کو بھی ان کی نظم کے ساتھ مربوط کر دیا ہے۔

وجد کرے گی زندگی جسم بہ جسم جاں بہ جاں

جسم بہ جسم جاں بہ جاں شام بخیر شب بخیر

جون ایلیا

اچھوں کو تو سب ہی چاہتے ہیں

ہے کوئی، کہ میں بہت برا ہوں

انور شعور

میں جس میں کھو گیا ہوں مرا خواب ہی تو ہے

یک دو نفس نمود سہی زندگی تو ہے

عبیداللہ علیم

جہاں بھونچال بنیادِ فصیل و در میں رہتے ہیں

ہمارا حوصلہ دیکھو، ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں

اقبال ساجد

انگوروں کے جھنڈ میں میٹھا جھرنا تو

تجھ پرمٹنے والے خوش ادراک ہوئے

ناصر شہزاد

پتھر بنے کھڑے تھے تجسس کے دشت میں

دل گم طلسمِ شوق کی حیرانیوں میں تھا

ریاض مجید

سائے مہکے ہوئے گوشوں میں سمٹ جائیں گے

چاند نکلے گا تو یہ شہر اکیلا ہو گا

توصیف تبسم

باہر کے اسرار لہو کے اندر کھلتے ہیں

بند آنکھوں پر کیسے کیسے منظر کھلتے ہیں


ساقی فاروقی

اسی دہائی میں پاکستانی غزل کے منظر نامے پرابھرنے والا ایک اہم نام خورشید رضوی کا ہے جنھوں نے روایت کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے اپنے عہد کے انسان کے کرب کو اپنے شعر میں سمیٹا۔ گم شدہ اقدار کی بازیافت خورشید رضوی کا بنیادی مسئلہ رہا ہے۔ان کےہاں تشبیہات و استعارات کا استعمال دیدنی ہے۔ اسلم انصاری کی غزل خارج و باطن کی کشمکش کا اظہاریہ ہے۔ قاضی ظفر اقبال کی غزل میں ایک سرمستی کی سی کیفیت ملتی ہے۔ وہ اپنے اشعار میں آتشِ رفتہ کے سراغ میں مگن ہیں، نارسا ئی کی متنوع کیفیات کا بیان اُن کے ہاں نمایاں ہے۔ طالب جوہری کی غزل روایت کی پاسداری اور جمالیاتی زبان کے تخلیقی استعمال کی مظہر ہے۔ شاعرات کی بات کی جائے تو ساٹھ کی دہائی میں زہرا نگاہ اور کشور ناہید نے اپنے عہد کی عورت کے احساسات و جذبات کی ترجمانی کی:

اب وہ آنکھیں نہیں ملتیں کہ جنھیں آتا تھا

خاک سے دل جو اٹے ہوں، انھیں جاری کرنا

خورشید رضوی

ٹھہر کے سن تو سہی غم کی ڈوبتی آواز

پلٹ کے دیکھ تو لے منظرِ شکستِ وفا

اسلم انصاری

اب کے وہ سودا سمایا سر میں ہے

گھر نہیں صحرا میں صحرا گھر میں ہے

قاضی ظفر اقبال

عطر فروشوں کے کوچے میں ایک شناسا خوشبو نے

میرا دامن تھام لیا تھا، اتنی دیر ضرور ہوئی

طالب جوہری

ملگجے کپڑوں پہ اس دن کس غضب کی آب تھی

سارے دن کا کام اُس دن کس قدر ہلکا لگا

زہرا نگاہ

اب صرف لباس رہ گیا ہے

وہ لے گیا کل بدن چرا کر

کشور ناہید

اِسی دہائی میں اردو غزل کی ہیئت سے بھی چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی گئی۔آزاد غزل کا ڈول ڈالا گیا۔ اس کوشش کے بنیاد گزار بھارت میں مظہر امام اور پاکستان میں فارغ بخاری تھے۔ فارغ بخاری نے اپنے تجربات کو قدرے وسیع رکھا جس کے لیے ان کا مجموعہ کلام "غزلیہ" ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔بعدازاں نئے پن کی شعوری کاوشوں سے معرا غزل، دوہا غزل، ماہیا غزل، مطلعاتی غزل۔۔۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ نثری غزل تک کے تجربے بھی کیے گئے لیکن ان میں سے کوئی بھی روش رواج نہ پا سکی۔اختر احسن کی زین غزلیں انفرادیت کا الگ تھلگ چولا زیب تن کرنے کی ناکام کوشش ثابت ہوئیں، کچھ بعید نہیں کہ "ہے ہنومان" کی اشاعت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہو۔ باقر مہدی کی ’’کالی غزلیں‘‘ بھی اسی سلسلہ کو آگے بڑھاتی نظر آتی ہیں۔


ساٹھ کی دہائی میں غزل کے ساتھ کھل کھیلنے کی کوششیں کی گئیں تو 1970 ء کے بعدغزل میں روایت کی طرف ایک جھکاو کا احساس سامنے آتا نظر آیا۔ لیکن اب صرف روایت کا احیاء مقصود نہیں تھا۔ اب گذشتہ دہائی میں ہونے والے تجربات بالخصوص اسلوبی تجربات سے استفادہ بھی پیشِ نظر رہا۔ یوں اسے قدیم اور جدید کا امتزاج بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس کی سامنے کی و جہ شاید یہ حقیقت بھی ہوکہ ستر کی دہائی میں سامنے آنے والے ساٹھ کی دہائی میں کیے گئے تجربات کا انجام دیکھ چکے تھے۔ انحرافی غزل کو قبولیتِ عام نصیب نہ ہو سکی۔ دوسرے وہ شعرا جنھوں نے انحرافی غزل کا بیج بویا، قلیل یا طویل مدت کے بعد واپسی کے سفر پر مجبور ہو گئے۔ سلیم احمد سامنے کی مثال ہیں کہ انھوں نے بیاض کے بعد اس روش پر مزید سفر جاری رکھنے سے گریز کیا ۔ ظفر اقبال نے انٹی غزل کو جاری و ساری رکھا لیکن انتہا پسندانہ رویے میں واضح کمی تو’’ گلافتاب‘‘ کے دوسرے ایڈیشن ہی میں سامنے آ گئی۔ ان کی بعد کی غزل کو ’’آب رواں‘‘ ہی کی ایکسٹینشن قرار دیا جا سکتا ہے۔

یہ ایک متوازن رویہ تھا ۔غلام محمد قاصر کی غزل جدید طرزِ بیان اورروایت کے امتزاج سے ایک چونکا دینے والے ڈرامائی پیرایے میں اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ قاصر کی مثال نئے لکھنے والوں کے لیے ایک عمدہ مثال ہے کہ نئے موضوعات کے بغیر محض پیرایہ بیان کے بل بوتے پر قاری کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ چراغ اور ستارہ جمال احسانی کے بنیادی استعارے ہیں۔ وہ معاملاتِ محبت کے بیان کے ساتھ ساتھ انسان اور کائنات کے حوالے سے سوال اٹھاتے بھی نظر آتے ہیں۔ ذاتی مشاہدات و تجربات اور مسلسل زوال پذیر انسانی اقدار کی تجزیاتی پیش کش سلیم کوثر کا اختصاص ہے۔ صابر ظفر ایک حساس شاعر ہیں۔ ان کی شعری اٹھان نے دنیائے ادب کو اپنی جانب متوجہ کیا ۔ پھر نہ جانے کیا ہوا کہ ان کے اردگرداشاعتِ کتب کی تیز تر دوڑ میں اور مسلسل تجربات کی شدید لگن میں ان کی غزل کا بانکپن کہیں راستے میں رہ گیا۔ محمد خالد نئی غزل کے حوالے سے ایک بڑا نام ہے۔ لیکن ان کے قاری کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ان کے کلام کی عدم دستیابی رہا ہے:

ہر سال کی آخری شاموں میں دو چار ورق اُڑ جاتے ہیں

اب اور نہ بکھرے رشتوں کی بوسیدہ کتاب تو اچھا ہو

غلام محمد قاصر

اُس رستے میں پیچھے سے اتنی آوازیں آئیں جمال

ایک جگہ تو گھوم کے رہ گئی ایڑھی سیدھے پاوں کی

جمال احسانی

تو نے دیکھا نہیں اک شخص کے جانے سے سلیم

اِس بھرے شہر کی جو شکل ہوئی ہے مجھ میں

سلیم کوثر

یہ عشق ہے کہ ہوس ان دنوں تو پروانے

دیے کی لو کو بڑھا کر دیے پہ گرتے ہیں

صابر ظفر

یہ مسافت حدِ یک خواب سے آگے نہ گئی

ہم نے اس وادی غربت میں گزارا ہی کیا

محمد خالد

خالد احمدکی غزل کے اکھوے روایت سے پھوٹتے ہیں لیکن اپنے کمالِ فن کے ساتھ منفرد اسلوب، نادر تشبیہات و علامات اور تلمیحات کے باعث وہ معاصرین سے بالکل الگ تھلگ نظر آتے ہیں۔ نجیب احمد غزل میں سادگیِ بیان اور تہ داری کے باعث جانے جاتے ہیں۔ محسن اسرار کی غزل زبان و بیان کی خوبیوں اور جدید عہد کے مسائل کی تفہیم کے لیے قدیم علامات و استعارات کے عمدہ استعمال کے باعث اردو غزل کے ارتقاء میں اہمیت کی حامل ہے:

سبھی آنکھیں مری آنکھوں کی طرح خالی تھیں

کیا کہوں؟ کون یہاں جاننے والا تھا مرا

گھر میں نہ اک چھدام تھا، چاند چراغِ بام تھا

چاند کی چھائوں دھر دیا، ہم نے بھی سوت کات کے

خالد احمد

زر کے طالب ہیں، ریت چھانتے ہیں

ہم سب اک دوسرے کو جانتے ہیں

نجیب احمد

بہت سے زاویے ہوتے ہیں دلآویز صورت کے

مگر جو آدمی کی آخری تصویر ہوتی ہے


محسن اسرار

ساٹھ کی دہائی میں سامنے آنے والے شعرا کے ہاں بغاوت کے رجحان نے زور پکڑا تو ستر کی دہائی میں شعرا نے ماضی کی جانب دیکھنا شروع کر دیا۔ ماضی کی بازیافت کی خواہش، حال میں درپیش صورتِ احوال کی پیش کش کے لیے اساطیر اور مذہبی و تہذیبی علامات کے استعمال کو فروغ حاصل ہوا۔ یہاں بغاوت کی جگہ مسائل کے حل پر نظریں رکھنےکو ترجیح دی گئی۔ لیکن کہیں کہیں اس حوالہ سے شدت پسندی کے مظاہربھی دیکھنے کوملتے ہیں۔ اس رجحان کا آغاز ایک تحریک کی صورت میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔اس صورتِ حال میں سب سے اہم شاعر ثروت حسین ہیں۔ ان کی شعری کائنات کے بنیادی ماخذ مذہب اور تاریخ ہیں۔اپنی زمین اور اپنی مٹی سے بڑھ کر ان کے لیے کچھ نہیں۔ انسانی نفسیات ان کا مطمح نظر ہے:

آنکھیں ہیں اور دھول بھرا سناٹا ہے

گزر گئی ہے عجب سواری یادوں والی

شہزادی تجھے کون بتائے تیرے چراغ کدے تک

کتنی محرابیں پڑتی ہیں، کتنے در آتے ہیں

ثروت حسین

مذہبی طرزِ احساس اور اسلامی اساطیر و تاریخ سے اگر کسی نے اُردو غزل کو مالا مال کیا ہے تو وہ اظہار الحق ہیں۔ وہ شان و شوکت، وہ علم و عرفان کہ جس کے بنیاد گزار مسلمان تھے، عقل و دانش۔۔۔۔۔۔ اظہار الحق کے ہاں محض ان کا تذکرہ ہی نہیں بلکہ کہیں کہیں تو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاعر خود اُس سارے کا حصہ ہے۔ اور بس یوں ہے کہ آپ بیتی کی صورت میں ایک داستان ہے کہ چل رہی ہے۔ عصر میں زوال دکھائی دیتا ہے تو علامات و استعارات اسی تہذیب سے تراشے جاتے ہیں، مستقبل کی نوید سنانا ہو تو عظمتِ رفتہ دھیان میں رکھ کر بات کی جاتی ہے۔ قصہ مختصر اظہار الحق نے اردو غزل کو ایک نئی ڈکشن سے مالا مال کیا۔

مرے ملازم و خرگاہ اسپ اور شطرنج

سب آئیں نظم سے ماتم کناں مرے پیچھے

غلام بھاگتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر

محل پہ ٹوٹنے والا ہوں آسماں جیسے

اظہار الحق

اسی سلسلے کا ایک اہم نام غلام حسین ساجدبھی ہےجنھوں نے اپنے کردار ماضی سے تراشے لیکن اپنے ہم عصروں میں اپنی خاص انفرادیت سے ماضی کی بازیافت کرتے ہوئے پوشیدہ حالات کی عکاسی میں نمایاں کردار ادا کیاجسے غزل کی خاص صفت رمزیت کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔غلام حسین ساجد نے اردو غزل میں متنوع تجربات کی داغ بیل ڈالی:

آنکھیں مری رہیں نہ ستارے مرے رہے

کیا اعتبارِ صبح ہو، کیا اعتبارِ خواب؟

آتا نہیں ہے بامِ سحر پر وہ دل رُبا

جاتا نہیں ہے سطحِ بصارت سے داغِ خواب


غلام حسین ساجد

افتخار عارف کلاسیکی رچاومیں روح عصر کی ترجمانی کرتے ہیں۔ کربلا سے متعلقہ علامات و استعارات ان کی غزل کو انفرادیت عطا کرتے ہیں۔ رزمیہ آہنگ، ماضی سے وابستگی اور اس کی بازیافت کے حوالے سے افضال احمد سید اور خالد اقبال یاسر بھی اہم نام ہیں۔ ایوب خاورکی بات جائے تو ڈرامے سے وابستگی کے باعث ان کی نظموں اور غزلوں میں بھی ایک کہانی کا سا تاثر بنتا ہے۔ دو مصرعوں میں مکمل کہانی کی تشکیل ۔۔۔۔۔۔ مسائل کا مدبرانہ تجزیہ ایوب خاور کی غزل کے نمایاں اوصاف ہیں :

نئے کردار آتے جا رہے ہیں روشنی میں

نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہو گا

دمشقِ مصلحت و کوفہ نفاق کے بیچ

فغانِ قافلہ بے نوا کی قیمت کیا

افتخار عارف

وہ پیشِ برشِ شمشیر بھی گواہی میں

کفِ بلند میں اِک شاخِ یاسمیں لایا

افضال احمد سید

ستون اپنے شکوہِ رفتہ میں گم کھڑا ہے

بس اک ذرا اِنہماک ٹوٹے گا، تب گرے گا

مخبری میری ہوئی چشمِ زدن میں کیسی

قصر دل ہی میں اسارا تھا کہ مسمار ہوا

خالد اقبال یاسر

مٹی کے کھلونے ہیں ترے ہاتھ میں ہم لوگ

اور گر کے بکھر جانے کے آثار بہت ہیں

دھوپ ہو، ابر ہو کہ سایہ گل

اب تو اس رہ گزر میں جو بھی ہو

Post a Comment

Previous Post Next Post